مل بیٹھتے ہیں جب یارانِ عشق 

شہرِ خراب میں سما۶ِ عید ہوتا ہے

دیکھا جو اس نے میرے ہمدردوں کو

خود کو تعن کیا کے اب کیوں روتا ہے

 حبيب اللہ